syed hasan qayam raza

    Follow

تبصرہ

محترمہ "شبیہ زہرا حسینی " ( کاموں پوری ) -------------------------------------------- "سحر ہونے تک " افسانوں کا مجموعہ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تبصرہ نگار ۔سید حسن قائم رضا روشن زیدی گلبرگہ کرناٹک بھارت ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔FB میں آپ کی کتابوں کے تعلق سے پوسٹ دیکھی تو دل میں خواہش ہوئی کہ آپ کی کتابوں کو پڑھا جائے ۔۔پھر میں نے کامنٹ میں آپ کو لکھا ۔ تو آپ نے فوراً اپنی تین عدد کتابیں بزریعہ ڈاک اپنے بڑے بیٹے کے ہاتھ سے میرے پتہ پر پوسٹ کروادیں ۔۔کتابیں مجھے ملیں تو میں دںنگ رہ گیا تین کتابیں میرے لیے ایک اچھا زخیرہ ثابت ہونگیں ۔ایک زمانہ ہوا میں نے افسانے ناول نہیں پڑھے کیوں کہ اب لکھنے والے ہی نہیں ہیں ۔۔کرشن چندر ۔پریم چند ،دت بھارتی ،خوشونت سنگھ ،جوگندر پال ،واجدہ تبسم ،امریتہ پریتم ،سعادت حسن منٹو ،کہنیا لعل کپور ابن صفی ، سراج انوار کی کہانیاں ،خوفناک جزیرہ ،کالی دنیا ،نیلی دنیا ،وغیرہ وغیرہ کو پڑھ پڑھ کر ہم دیوانے ہوگئے تھے ۔۔زمانہ ،tv ،انٹرنیٹ ،موبائیل فون ،وغیرہ کا نہیں تھا ،بس یہی کتابیں تفریح کا زریعہ تھیں ،یا کبھی فلم دیکھ لیتے تو دلیپ کمار ،دیوآنند ،راج کپور ،راج کمار ،راجیش کھنہ ،وغیرہ ہمارے پسندیدہ ہیروز تھے ،اب یہ زمانہ لد گیا پوری دنیا سمٹ کر ایک موبائل فون میں آگئی ہے تفریح کا یہی ایک زریعہ ہے ۔۔میرے پاس اردو کا ہر اخبار آتا ہے ۔۔کتابیں خرید تا ہوں ۔۔اردو کا شیدائی ہوں ۔۔ آپ کا افسانوں کا مجموعہ "سحر ہونے تک " میں نے پڑھ لیا ہے ۔اس سے قبل کہ کے افسانوں کا نشہ میرے ذہن سے اتر جائے میں نے فوراً لکھنا شروع کیا ہے ۔"سحر ہونے تک " میں آپ کے 19افسانے ہیں ہر افسانہ میں نے بہت ہی دلچسپی سے پڑھا ہر افسانے کے بارے میں مختصر اظہار راے کروں گا ۔افسانوں کے مجموعہ کا انتساب پسند آیا ،پیش لفظ میں آپ نے اپنا بھرپور تعارف کرایا ہے جس سے آپ کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوا ۔سب سے اچھی چیز آپ کے خیالات معلوم ہوئے ۔ڈاکٹر سید سرور احمد صاحب نے تجزیہ لکھ کر پڑھنے والوں کو آپ کے افسانوں کا تعارف کروایا ہے آپ women eara میں لکھتی تھیں ۔شاید آپ کے مضامین میں نے اس جریدے میں پڑھے ہوں کیوں کہ ویمین ایرا میں اپنی لڑکیوں کے لیے خریدتا تھا اور کئی سال تک خریدتا رہا یہاں تک کہ میری تینوں بیٹیاں بیاہ کر اپنی سسرال کو چلی گئیں ،پھر ویمین ایرا میرے پاس آنا بند ہوگیا ۔۔ "انمول ہیرا" یہ ایک طویل افسانہ ہے ایسے افسانے اب نہیں لکھے جاتے ۔اس افسانے میں آپ نے افسانے کی ہیروئین ،فاطمہ کا بہترین کردار پیش کیا ہے ۔افسانہ طویل ہے مگر پڑھنے میں لطف دیتا ہے ۔۔اور قاری تھکتا نہیں بہت محنت سے لکھا ہوا افسانہ ہے ،الفاظ ،اور جملے موتیوں کی طرح چمک رہے ہیں ۔۔"چائے صرف چکھ لیا کیجیے ، خود میٹھی ہوجائے گی " ۔۔۔"یادیں بھی ایک کتاب کی طرح ہوتی ہیں " " کبھی ایسا بھی ہوتا ہے " یہ افسانہ پڑھتے پڑھتے میں بہت گہرائی میں چلا گیا ایک عورت ،اور وہ بھی اور وہ بھی ممتا بھری اس کے جزبات کی آپ نے بھرپور عکاسی کی ہے ۔۔ "یہ دل انسانوں کو حقیقتوں سے دور کرا دیتا ہے " "اچھی اور تندرست سوچ ایک صحت مند زندگی کا پیغام دیتی ہے ۔"بچے تو بلکل موم کی طرح ہوتے ہیں ۔" آخری شکل کیا نکلے گی ۔۔یہ تو ماں باپ کی تربیت پر منحصر ہوتا ہے ۔۔۔ "سینے کی نسیں تن گیں ،ممتا کا دودھ ان میں ٹھا ٹھیں مارنے لگا " "آپ کے دودھ کا مزہ اب بھی میرے منھ میں باقی ہے " یہ سب آفاقی جملے ہیں ۔۔ افسانے میں ٹیلیفون ٹیکنیشن سے بنوایا جاسکتاتھا ۔بحرحال افسانہ اپنے عروج پر ہے ۔۔ "وقت کے ساتھ قدم اپنے بڑھاو ورنہ " نوابی دور کا افسانہ ہے ۔۔آخر نوابین نے اپنے آپ کو زمانے کے لحاظ سے بدلہ کیوں نہیں ۔۔لکھنؤ کے نواب جس طرح مغرور تھے اسی طرح حیدرآباد کے نواب بھی تھے ۔۔واجدہ تبسم نے حیدرآبادی نوابوں کی بہترین عکاسی کی ہے ۔۔ "سحر ہونے تک " اس افسانے کا عنوان مجموعہ کا عنوان بھی ہے ،ماں باپ بھائی بہنوں کی چہتی "سرلا" اپنے پڑوسی نوجوان کے ساتھ عشق میں گرفتار ہو کر گھر سے بھاگ جاتی ہے ۔۔پھر عاشق پڑوسی اس کو دھوکا دے دیتا ہے یہیں دے سرلا کی زندگی ختم ہوجاتی ہے اور وہ بے راہ روی پر چلنے لگتی ہے ۔۔بہترین نفسیاتی اور کلائیمکس پر گھومتا ہوا یہ افسانہ پڑھنے والے کو آخر میں ایک نئی راہ دیکھاتا ہے ۔۔ "کچھ مرد بے حس بچے کی طرح ہوتے ہیں ،جو پہلے ایک چمکتا ہوا کھلونا دیکھ کر مچل جاتے ہیں ۔۔ماں باپ کے منع کرنے کے باوجود اس کو خریدنے کے لیے مچلتے رہتے ہیں ۔۔لیکن وہ کھلونا جب ان کو مل جاتا ہے تو چند روز کے بعد اس کے پرزے پرزے الگ کردیتے ہیں ۔اور پھر اس کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھتے ۔" ادیبہ کی خود کی اتنی مصروف زندگی میں اس طرح کے جملے تخلیق کرنا خود میں ایک کمال ہے ۔۔ ادیبہ نے پہلی بار اس افسانے میں نوکیا 66کو متعارف کروایا ہے ۔ "چھوٹا سا سنسار " یہ افسانہ پڑھ کر ایسا لگا جیسے ہم خود اس کے کردار ہوں ۔۔میری زندگی بھی کچھ اسی طرح سے گزری ہے ۔۔جس طرح کے افسانے میں لکھا گیا ہے ۔چھوٹی سی تنخواہ اور بیوی بچوں کی فرمائیش ۔۔گھنٹوں سوچنے پر مجبور کردیتی تھیں ۔یا اللہ یہ سنسار کیوں بسایا ؟ "ساری تنخواہ تمہارے ہاتھ میں دے دیتا ہوں ۔جتنی چادر ہے اتنے ہی پیر پھیلائے جاسکتے ہیں " محبت آفرین جملے اتار چڑھاؤ افسانے کو چار چاند لگا رہے ہیں ۔یہ افسانہ دل کو لگا ۔ باقی آیندہ ۔۔سید حسن قائم رضا روشن زیدی گلبرگہ کرناٹک بھارت ۔16/10/2020

Comments